کور اسٹوری

ڈیل میکر کے ساتھ عشائیہ

جو چیز نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں ایک نئی شروعات ہو رہی ہے، اور امریکہ اب جنوبی ایشیاء کو صرف بھارتی نقطۂ نظر سے دیکھنے کا رویہ ترک کر رہا ہے۔

July 2025 | سبریہ چودھری بالینڈتحریر:


مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ جنگ نے واضح طور پر علاقائی عسکری توازن کو بدل دیا ہے اور عالمی اتحادوں کی نئی ترتیب پیدا کی ہے۔ بھارت کی عسکری ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے، جبکہ پاکستان ایک مضبوط ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی منظرنامہ ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔ کبھی قریبی تعاون کے ادوار آئے، تو کبھی خدشات اور کشیدگی کے لمحات۔ تاہم 2025 تک، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔ اب تعلقات میں محتاط انداز میں نئی ترتیب دی جا رہی ہے، جو علاقائی جغرافیائی اہمیت اور ترجیحات پر مبنی ہے۔

2025 میں امریکہ-پاکستان تعلقات کی موجودہ صورتحال:
دونوں ممالک کے تعلقات خاص طور پر 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خاصے کشیدہ رہے۔ تاہم 7 مئی 2025 سے شروع ہونے والے پاک-بھارت تنازعے نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی روابط کو ایک نیا رُخ دیا، خاص طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ۔

اسی سال 4 مارچ کو صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ پر ہونے والے بم دھماکے کا ذکر کیا۔ جب طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افغانوں کو نکالا جا رہا تھا، تو اس واقعے میں سینکڑوں افغان شہری اور امریکی فوجی مارے گئے۔ صدر ٹرمپ نے اس حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا:
"میں خاص طور پر پاکستان کی حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس درندے کو گرفتار کرنے میں مدد کی۔"

اس خطاب کے تین ماہ بعد صدر ٹرمپ نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی صدر نے پاکستان کے کسی ایسے عسکری رہنما کو مدعو کیا جو ملک کا سربراہ مملکت نہ ہو۔ یہ وہی صدر ٹرمپ ہیں، جنہوں نے سات سال پہلے پاکستان پر "جھوٹ اور دھوکہ دہی" کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ "پاکستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ فراہم کرتا ہے"۔

ٹرمپ کی طرف سے تعلقات کو مثبت بنیادوں پر دوبارہ شروع کرنے کی دعوت اس پرانی بھارتی حمایت یافتہ منفی بیانیے سے واضح انحراف ہے، جس نے امریکی پالیسیوں کو متاثر کیا اور پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز بنا کر پیش کیا (حالانکہ متعدد حملے بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کی فالس فلیگ کارروائیاں تھیں)۔ صدر ٹرمپ کے اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ اب اس بھارتی چال کو سمجھ چکے ہیں اور مزید اس کا شکار نہیں بننا چاہتے۔

وائٹ ہاؤس ملاقات میں زیر بحث اہم نکات:
تعاون اور انسداد دہشتگردی:

امریکہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے، خاص طور پر اسلامک اسٹیٹ خراسان (IS-K) جیسے گروہوں کے خلاف۔

تجارت اور اقتصادی تعلقات:
پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی امریکہ ہے۔ 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 6.5 ارب ڈالر تھا، جس میں پاکستان کو معمولی تجارتی فائدہ حاصل تھا۔ امریکہ نے پاکستان میں ٹیکنالوجی، توانائی، اور صارفین کی اشیاء کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی۔ تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سال صدر ٹرمپ نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کیا ہے۔

جغرافیائی سیاست (Geo-Politics):
یہ شاید سب سے اہم وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی حکمت عملی سے ترتیب دینا چاہتے ہیں — یعنی چین کا بڑھتا ہوا اثر۔
چین کی پاکستان میں گہری موجودگی، خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے، امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ CPEC چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (BRI) کا حصہ ہے، جو پاکستان کے ساتھ معاشی اور سکیورٹی روابط کو گہرا کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ چین کی تزویراتی موجودگی سے امریکہ کو اپنے مفادات کے متاثر ہونے اور علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا خطرہ لاحق ہے۔

پاک-بھارت کشیدگی میں امریکی کردار:
مئی 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں دہشتگرد حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی۔ اس دوران امریکہ نے امن کے قیام اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی نائب صدر وینس اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے جنگ بندی کے لیے انتھک محنت کی تاکہ خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹالا جا سکے۔

تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی امریکی ثالثی کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطحی عسکری مذاکرات کا نتیجہ تھی۔ مودی کا یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے لیے باعثِ ناپسندیدگی ہے اور اس نے امریکہ-بھارت تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق، اس ملاقات کی اصل وجہ پاکستان کے آرمی چیف کا شکریہ ادا کرنا تھا، جنہوں نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران فیصلہ کن کردار ادا کیا اور ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکا۔

پاکستانی فوج کے مطابق،
"یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مضبوط کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد پر مبنی ہے۔"

یہ بات اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ نہ صرف امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں نیا آغاز ہو رہا ہے، بلکہ امریکہ اب بھارت کے تناظر سے جنوبی ایشیا کو دیکھنے کا پرانا زاویہ بھی ترک کر رہا ہے — خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ میں غیر قانونی بھارتی باشندوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان مثبت تعلقات کا قیام، نہ صرف دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات بلکہ پورے جنوبی ایشیاء اور عالمی برادری کے امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی نہایت ضروری ہے — اور موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ یہ سفر ایک بہتر آغاز کی طرف جا رہا ہے۔